امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والا معاہدہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا نظرنہیں آرہا‘گرمی میں شدت کے ساتھ تشددمیں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے. کابل(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 اپریل۔2020ء)
افغانطالبان نے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد نہ ہونے پر افغان حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد آنے والے دنوں میں افغانستان میں شدید خونریزی کا خدشہ ہے. طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغان حکومت قیدیوں کی رہائی میں حیلے بہانے کر رہی ہے اور قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی ذمہ دار صدر اشرف غنی کی انتظامیہ ہے سہیل شاہین نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی سے پہلے طالبان نے قیدیوں کی شناخت اور تصدیق کے لیے ایک تیکنیکی ٹیم کابلبھیجی تھی لیکن وہ ٹیم اب ان بے نتیجہ مذاکرات میں شریک نہیں ہو گی جو متعلقہ فریقین کے درمیان کل سے شروع ہونے جا رہے ہیں.

00:00
/
00:01
00:00
لیکن ان کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل سکا ہے.
افغان حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ایک رکن متین بیگ نے کہا ہے کہ قیدیوں کی رہائی میں تاخیر اس لیے ہو رہی ہے کہ طالبان اپنے 15 اعلیٰ کمانڈرز کی رہائی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے لوگوں کے قاتلوں کو رہا نہیں کر سکتے ہم نہیں چاہتے کہ وہ رہا ہو کر دوبارہ میدان جنگ میں جائیں اور پورے صوبے پر قبضہ کر لیں.
No comments:
Post a Comment